پارلیمانی سپیکر رمضان کے عشائیے میں مداخلت نہیں کریں گے
03. sep. 2010 11.27 Urdu
ڈینش پارلیمانی سپیکر، رمضان المبارک کے اختتام پر، پارلیمنٹ کے ریسٹورنٹ میں دیئے جانے والے عشائیے میں مداخلت نہیں کریں گے ۔
روزنامہ ایکسٹرا بلیڈٹ نے لکھا ہے کہ، رمضان المبارک کے اختتام کی خوشی میں اس عشائیے کا بندوبست، سوشلسٹ پیپلز پارٹی ( ایس ایف ) کی پارلیمانی رکن، اُزلم چکچ اور ایک ترک اخبار نے مل کر کیا ہے ۔
پارلیمنٹ کے ریسٹورنٹ میں دئیے جانے والے اس عشائیے پر ڈینش پیپلز پارٹی اور ، کرسچیئن ڈیموکریٹک دونوں نے سخت اعتراض کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے سپیکر تھور پیڈرسن سے درخواست کی تھی کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے پارلیمان کے ریسٹورنٹ میں دیئے جانے والے ، رمضان کے اختتامی عشائیے کو رکوائیں ۔
ان دونوں پارٹیوں نے اس عشائیے کو ڈینش معاشرے کے خلاف ایک اشتعال انگیزی قرار دیا ہے ۔
پارلیمانی سپیکر تھور پیڈرسن نے کہا ہے کہ وہ اُس معاہدے میں مداخلت نہیں کر سکتے جو اس عشائیے کا بندوبست کرنے والی ایس ایف پارٹی کی پارلیمانی رکن اُزلم چکچ اور پارلیمنٹ کے ریسٹورنٹ کی انتظامیہ کے درمیان طے ہے ۔
اس عشائیے میں جن ایک سو اسی کے قریب جن مہمانوں نے شمولیت کی دعوت قبول کی ہے ان میں وزیر سماجی امور بینیڈکٹے کئیر، قومی فٹبال ٹیم کے سابق کوچ سیپ پیونٹک اور سابق، بڑے ربی بینٹ ملشیؤر بھی شامل ہیں ۔
وزیر اعظم لارس لکے راسموسن نے اس میں شمولیت سے معذرت کر لی ہے ۔
ترجمہ: نصر ملک
urdu@finfo.dk